نئی دہلی،8/فروری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا میں جمعہ کو سوال کے دوران اس وقت ہنگامہ برپا ہوگیا جب وزیر صحت ہرش وردھن نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے ایک سوال کا جواب دینے سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں گاندھی کے ایک بیان پر تنقید شروع کر دی۔ اس پر کانگریس کے ایک رکن ہنگامہ کرتے ہوئے حکمراں فریق کی سیٹ تک پہنچ گئے اور تنازعہ بڑھتا دیکھ کرلوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے ایوان کا اجلاس دوپہر ایک بجے تک کے لئے ملتوی کر دیا۔سوال کے دوران برلا نے راہل گاندھی کو طبی کالجوں کے قیام سے متعلقہ ان کواضافی سوال پوچھنے کے لئے کہا۔ہرش وردھن نے کہا کہ راہل گاندھی کے سوال کا جواب دینے سے پہلے میں وزیر اعظم مودی کے خلاف ان کے ایک بیان کا ذکر کرنا چاہوں گا اور اس کی مذمت کرنا چاہوں گا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ چھ ماہ بعد ملک کے نوجوان وزیر اعظم کو ڈنڈے ماریں گے۔اسی دوران کانگریس کے رکن زوردار طریقے سے احتجاج درج کرانے لگے اور پارٹی رکن منکم ٹیگور حکمراں فریق کی سیٹ کے پاس پہنچ گئے اور دوسری قطار میں جواب دے رہے ہرش وردھن کے ٹھیک سامنے پہنچ کر ہاتھ دکھا کر مخالفت کرنے لگے۔تمل ناڈو سے کانگریس رکن ٹیگور، ہرش وردھن کے بالکل سامنے پہنچ گئے تھے جنہیں روکنے کے لئے کئی وزیر اور بی جے پی کے رہنما آگے آ گئے۔ٹیگور کے پیچھے پیچھے کیرلا سے کانگریس رکن ہبی اڈین بھی حکمراں فریق کی جانب پہنچ گئے۔اس دوران پارلیمانی امور کے وزیر ارجن رام میگھوال،اور اسمرتی ایرانی سمیت کئی وزیر اور بی جے پی رکن ان کو روکنے کے لئے پہنچ گئے۔بی جے پی کے رہنما برج بھوش شرن سنگھ نے سب سے پہلے پہنچ کر ٹیگور کو روکنے کی کوشش کی اور وہ ان سے ناراضی میں کچھ کہتے بھی نظر آئے۔اس دوران ہنگامے کی صورتحال بن گئی اور صدر برلا نے ایوان کے اجلاس کودوپہر ایک بجے تک کے لئے ملتوی کر دیا۔وہیں ایوان سے باہر آنے کے بعد بی جے پی رہنما جگدمبیکا پال نے کہا جب مرکزی وزیر ہرش وردھن بول رہے تھے تو کانگریس ممبر پارلیمنٹ منکم ٹیگور پورے جذبات کے ساتھ ان کی طرف بڑھے۔یہ جمہوریت کے لئے بدقسمتی کی بات ہے۔وہیں پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے کہا کہ راہل گاندھی کے اکساوے کے بعد اب انہوں نے سوچا کہ ڈنڈے والا راستہ ہی دکھایا جائے۔ڈاکٹر ہرش وردھن کے ساتھ ہاتھا پائی کی کوشش کی گئی ہے۔یہ کانگریس کی مایوسی اور جرم کی انتہائی حد کو ظاہر کرتا ہے۔غور طلب ہے کہ دہلی کی ایک انتخابی ریلی میں بدھ کو گاندھی نے کہا تھا کہ موجودہ وقت میں جو حالات ہیں اسے دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ چھ ماہ بعد وزیر اعظم کو نوجوان ڈنڈے ماریں گے۔